بنٹوال، 17 / اکتوبر (ایس او نیوز) ایک مسافر جب اپنے ساتھ مرغی کا گوشت لے کر کے ایس آر ٹی سی بس میں سوار ہوتا تو بس کنڈکٹر نے اس پر اعتراض کیا اور گوشت لے کر سفر کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسافر کو بس سے اتارنے پر تُل گیا ۔ جب مسافر نے اس کی بات نہیں مانی تو ڈرائیور مسافروں سے بھری بس کو قریبی پولیس اسٹیشن لے گیا ۔
معلوم ہوا ہے کہ سریش نامی ایک مزدور مرغی کے گوشت کے ساتھ تھومبے سے بس میں سوار ہوا ۔ جب کنڈکٹر نے کے ایس آر ٹی سی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مرغی کے گوشت پر اعتراض کرتے ہوئے اسے بس سے اترنے کے لئے کہا تو اس نے کنڈکٹر اور ڈرائیور کے ساتھ تکرار شروع کی اور کسی صورت بھی بس سے اترنے سے انکار کیا تو ڈرائیور پوری بس پولیس اسٹیشن لے گیا اور وہاں اس نے سریش کو گھسیٹ کر زبردستی بس سے باہر نکالا ۔ اس وقت سب انسپکٹر رام کرشنا نے مداخلت کی اور معاملہ کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔
سب انسپکٹر رام کرشنا اس بات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کے ایس آر ٹی سی بس میں مچھلی اور مرغی کا گوشت لے جانے پر جو پابندی ہے اس کے بارے میں ایک عام مزدور کو کیسے واقفیت ہو سکتی ہے اور کیا تھوڑا سا گوشت لے جانے کے لئے ایک غریب مزدور کو بس کے بجائے آٹو رکشہ یا ٹیکسی کا بھاری کرایہ ادا کرنا ہوگا ۔
عام مسافروں کی طرف سے اس بات پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مچھلی یا مرغی گوشت اپنے ساتھ لےجانے پر جو ضابطے کی خلاف ورزی اور قانونی کارروائی کرنا کس حد تک درست ہو سکتا ہے ۔ جب کہ بسوں میں زندہ مرغیاں اور بکریاں لے جائی جا سکتی ہیں ۔
بنٹوال ڈیویژن کے آفیسر شریشا بھٹ نے بتایا کہ مچھلی یا مرغی کا گوشت بس میں لے جانے پر پابندی ہے کیونکہ اس کی بساند سے دوسرے مسافروں کو تکلیف ہوسکتی ہے ، جب کہ مسافر زندہ جانور اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ۔